ہم چیخناچاہتے ہیں

ہم چیخناچاہتے ہیں

یہ زندگی سے ناراض رویہ ہے
ہر صبح آواز قتل کر دی جاتی ہے
تو ساراشہر خاموش ہوجاتا ہے
کسی کو گرنے سے بچانے کے لئے
ہم چیخنا چاہتے ہیں
مگر ایک ایسی تصویر بن جاتے ہیں
جس میں خاموشی کو قید کر دیا جاتا ہے
ہم تہہ در تہہ
کسی اجنبی سمت اتر جاتے ہیں
الجھی سوچوں کے ہمراہ
اب وقت کا دائرہ بھی
جائے اماں نہیں ہے کہ
محبت کی اجلی روشنی
رنگوں اور خوابوں کے درخت سے
ٹوٹ چکی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s