روزن اور ہوا

خوابوں کی دیواریں گر گئی ہیں

منڈیروں  پر بیٹھی ہوئی فاختائیں

شام ہونے پر کہیں اور کوچ کر چکی ہیں

کالا سورج میرے وجود میں غروب ہوگیا ہے

اور اندھیرے کا جنگل پھلتا چلا جارہاہے

رنگ زخمی ہوکر داغ بن گئے ہیں

خوشبو سے خالی ہواوں نے آنکھوں کو زنگ آلود بنادیا ہے

خیالوں کے چھروکوں کو دیمک چاٹ رہی ہے

محبتوں کے کاندھوں پر صلیب کا عذاب ہے

اور میں نفرتوں کی ایک علامت بن گیا ہوں

کاش کوئی پرندہ خوش رنگ پھولوں کا اسم پڑھے

اور مجھے میری قید سے آزاد کرادے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s