زندگی کے درمیان

جب زندگی کے درمیا ن راستے ختم ہوھوگئے

تو ہم نے سوچا، ایک ایسی رات آراستہ کی جائے

جسکی مشرقتی دیوار پر سورج کبھی طلوع کہ ہو

خوشبو کی بہتی جھیل میں

جب ہم نے اپنے پاوں رکھے

تو چاند اور ستارے ہمارے ہمراہ تھے

پرندوں کی اجلی آوازیں

تنہائی کی چادر پرلکھے

گم شدہ خوابوں کو زندہ کر رہی تھیں

اور خوشبو کی چھیل کنارے

ہماری تنہائی کے زخم سیئے جارہے تھے

اس چھیل میں تیرتے ہوئے

ہم نے اپنے وجود کو

ایک خوبصورت تصویر کے روپرو پایا

رنگ ہر طرف اڑ رہے تھے

خوشبو کے ساتھ رقص کرتے ہوئے

ہم نے اپنے پیاسے جسموں پر نقش

رنگوں کی لکیروں کو لباس کی قید سے آزاد کر دیا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s