شام کے کنارے پر

ایک جنگل پرندوں کی آواز سے محروم ہے

ایک آواز ہاتھوں سے بار بار گرتی ہے

ایک لڑکی جو شام کے کنارے اکیلی ہے

ان سب سے اوپر

جلتا سورج ہے

مسافر اپنا سامان درست کر رہا ہے

بہت سی چیزیں اور خواب

جو کسی نے اس کے اسباب میں

چپکے سے رکھ دئے تھے

مگر جب وہ جنگل سے گزرا

تو خاموشی کے ڈر سے اس کی آواز

ہاتھوں سے بار بار گرتی جاتی تھی

ایک لڑکی جو اپنا خواب

اس کے ساماان میں چھپا چکی تھی

شام کے کنارے

اتتظار اوڑھے بیٹھی تھی

اور کھلے آسمان پر جلتا سورح

چوری ہو چکا تھا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s