غنیم کا لشکر

مفلسی کی دیمک پوشاک کو چاٹ رہی ہے

دکھوں کی برہنگی کو چھپانا مشکل ہوگیا ہے

گھر کی دیواریں چھوٹی ہوتی جارہی ہیں

پرچھائیوں کے عقب میں غنیم کا لشکر ہے

جو روٹی چھیننے اور غزتوں پر وار کرنے آگے پڑھتا چلا آرہا ہے

بولتی زبانوں کا شور ساکت سمندر بن گیا ہے

کون ہے

جو اس سیاہ رات میں گرتی ہوئی دیواروں کی حفاظت کرے

کون ہے  ۔۔۔۔ جو  ہماری برہنگی کو ڈھانپنے کے لئے

اپنی پوشاک ہمیں دے دے

لیکن  یہاں تو کوئی زندہ نہیں ہے

سارے چہرے پتھر کے ہوچکے ہیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s