قاتل کون ہے؟

تم نے اس کا خون دیکھا ہے

تم نے اس کی زبان سنی ہے

تم نے اس کا گھر دیکھا ہے

کسی چوراہے پر

کسی دفتر کے بند کمرے ہیں

اور کسی دروازے پر

جو اپنی عمر ہار جاتا ہے

رشتوں کی زنجیر توڑ دیتا ہے

اس آدمی کی ٹانگیں کیسی ہوتی ہیں

جو دوڑ کے مقابلے  جیتتا ہے

اس آدمی کے ہاتھ کیسے ہوتے ہیں

جو قتل کرتا ہے

اس آدمی کی زبان کیسی ہوتی ہے

جو جھوٹے وعدے کرتا ہے

ایک نظم جب بچھڑ جاتی ہے

ایک چھوٹ جب بولا جاتا ہے

ایک روٹی جب مانگنی پڑتی ہے

تو ایک انسان قتل ہوجاتا ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s