اندر کا چراغ

تم اپنے سفر میں ہو

کہ خواہشیں تمہیں رنگ برنگے غباروں

کی طرح اڑتی ہوئی محسوس ہوتیں ہیں

تم انہیں چھونے کے لئے آگے بڑھتی ہو

اور سرابوں کو اوڑھ لیتی ہو

تم دائروں میں قید ہو

تمہاری نیکی ، تمہارا چہرہ

جھوٹ کے خلاف ہے اور زخمی ہے

تم اپنی راہ الک تراش رہی ہو

تمہاری آواز معمولی نہیں ہے

مگر پرچھائیاں زندگی کے تعاقب میں ہیں

شاید یہ کوئی مجبوری ہے

تم پھول جاتی ہو کہ ایک چمکدار طاق

تمہارے اندر بھی موجود ہے

جہاں ایک زندہ چراغ جل رہا ہے

تم ٹوٹے ہوئے گھڑے پر دریا کو پار کرنا چاہتی ہو

اور زندگی کی روشنی تمہارے چہرے سے برسنے لگتی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s