ایک درخت کے نیچے


ایک درخت کے نیچے وہ دو جسم تھے

مختلف سایوں اور آوازوں کے درمیان

انہوں نے ایک خواب دیکھا تھا

مگر روشنی کی آنکھیں

ان کی دشمن تھیں

دو سائے

ہمیشہ ایک دوسرے کے تعاقب میں

خود کو ہار جاتے ہیں

ایک درخت کے نیچے

وقت پگھلتا رہا

انہوں نے چاہا

کہ سورج کو زمین کا کفن

پہنا دیں

مگر ان کی آنکھیں

جو ایک دوسرے کو چھوتی تھیں

لمس کی پہنائیوں میں اندھی ہو گئیں

ایک درخت کے نیچے

مختلف زمانوں کی قید میں

وہ اجنبی سمتوں میں تقیسم ہوگئے

Advertisements

One response to “ایک درخت کے نیچے

  1. wao drakht k neechy nice

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s