جب دستک ابھرتی ہے

جب تھکن بازو سمیٹی ہے

دن کے سارے اجلے کپڑے

رات کے فرش پر گرتے چلے جاتے ہیں

آوازیں مجھے پکارتی ہیں

میں لمبے راستوں پر

پیروں کی لکیریں کھینچتا ہوں

میرے بدن پر سوئی تھکن

قطرہ قطرہ اندھیرے میں

گرتی جاتی ہے

خوشبو کا سیلاب پھیل جاتا ہے

میرے پیاسے ہاتھوں پر

مہکتا بدن ناچتا ہے

آوازیں میرے گرد بانہیں بکھیردیتی ہیں

پھر کوئی دستک ابھرتی ہے

اور دروازے کی آواز مجھے کھول جاتی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s