جنگل کی راکھ

وہ ایک دوراہے پر کھڑی ہے

ایک طرف بوڑھا ہاتھ ہے

جو چاھتا ہے کہ وہ رات بن کر

اس کے جاگتے بدن پر ٹوٹ پڑے

دوسری طرف آسمان پر امنگیں اپنے خوش رنگ

پر پھیلائے اڑ رہی ہیں

اور وہ ایک بے کنار پرواز چاہتی ہے

مگر اس کے پاس بیھٹا ہو ا بوڑھا

ایک ٹھنڈی آگ روشن کئے ہوئے ہے

کہ اسے اپنے مردہ بدن کا احساس نہیں

اس کی سانسیں تھک کر گم ہوچکی ہیں

برف جیسے سینے پر

وہ جلے ہوئے جنگل کی راکھ ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s