خوابوں کی فصل

میرے سیاہ آسمان پر

تم نے اپنے چہرے کی روشنیاں لکھ دی ہیں

بہت دنوں بعد آج ایک قیدی رہا ہو کر چاند دیکھ رہا ہے

میں تو بازی ہار چکا تھا

جس زمین میں مجھے اپنے خوابوں کی فصل بونا تھی

وہ دھوپ میں جل گئی تھی

مگر آج تمہاری بھیگی آنکھوں میں دعائیں جاگ رہی ہیں

اور تم میرے جسم و جاں کے خلا کو

اپنے لمس کی حرارتوں سے پر کر رہی ہو

تم نے اپنے آپ کو مجھ سے جوڑ لیا ہے

تمہاری آواز پر موسم بدل رہے ہیں

جلتا ہوا سورج شام کے سمندر میں اتر گیا ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s