پناہ درکار ہے

ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے

مصنوعی موسم کی اجلی شاموں سے میں خود کو موڑ چکا ہوں

خوشیوں کے لمحےٹوٹی ہوئی گھڑی کی سوئیوں کی طرح

ایک ہی زمین پر رک گئے ہیں

میں بہت آگے نکل آیا ہوں

ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے

جو تم جیسا ہو اور کوئی سوال پوچھے بنا

میرے جسم و جاں میں نشہ بن کر اتر جائے

شاید کوئی فیصلہ میرے اندر کہں ہوچکا ہے

اس لئے تو میں وقت کے ساتھ نہیں ہوں

کوئی اجنبی ہاتھ مجھے جکڑے ہوئے ہے

میرے سانسوں کی ڈوریوں کو تھامے ہوئے

مجھے کسی اور سمت گھسیٹ رہا ہے

میں وہاں جانا نہں چاھتا

جہاں تم نہیں ہو ۔۔۔۔

ایک بار پھر مجھے پناہ درکار ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s