جاذب قریشی کی شاعری

محبان بھوپال ، تنظیم فلاح خواتین، این سی سی اے پاکستان کے زیر اہتمام معروف شاعر و نقاد جناب جاذب قریشی کے شعری مجموعے

“لہو کی پوشاک ”

کی تقریب اجرا مورخہ 21 جون بمقام النساؑ کلب ، گلش اقبال کراچی میں منقدہ ہوئی

جناب جاذب قریشی کی شعری کتاب لہو کی پوشاک سے انتخاب

گھر کا چراغ

راستے بند ہیں

میرے گھر کے کواڑوں پہ پتھراؤ ہے

بام و در

بہرے گونگے اندھیروں سے مانوس ہیں

زرد پر چھائیوں کے بدن

زخم در زخم میرے ہی ملبوس ہیں

روزنوں سے مری روشنی گھورتی ہے مجھے

کھڑکیوں کی سلاخوں کے پیچھے

نئی وحشتوں کی خبر ڈھونڈتی ہے مجھے

کوئی کہتا ہے مجھ سے

کتابوں کے سب حرف اڑ جائیں گے

آسمان ٹوٹ کر

خود زمینوں سے جڑ جائیں گے

آگ میں عکس جلنے کو ہے

اور موسم بدلنے کو ہے

اس سے پہلے مگر

میر ےمقتول چہرے کو پہچان لو

میرے گھر میں ہی میرا قاتل بھی ہے جان لو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طاق دعا

آگ پہنے ہوئے خون اوڑھے ہوئے

سنگ و آہن کے کالے سفر میں چلے ہو کدھر

کچھ کہو تو سہی

شہریکجا ئی میں تم اندھیروں کی آواز پر

وحشتوں کے نشان لے کے نکلے ہو کیوں

جو درختوں سے خود ان کے سائے جدا کر کے آسودہ ہو

کن خیالوں کا آسیب ہے

جس نے خوش رنگ خوابوں کے ہاتھوں میں

پتھر کے کشکول باندھے ہیں

اور جانے کن خوشبوں کے لئے

تم گلابوں کو ٹکروں میں تقسیم کرتے چلے جا رہے ہو

کہ شہر خدوخال میں

زندہ چہروں کو پرچھائیوں پر لکھے جارہے ہو

بھلا کون سی کم نسب خواہشیں ہیں

جو تم جیسے شہزادگان وفا کو لباس ہوس دے گئی ہے

کہو کس نے بے عکس آئینہ تم کو دکھا کر

تمہیں یوں غبار سیہ میں مجسم کیا ہے

کہ طاق دعا جل اٹھا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سمندر کی پہچان

اے کراچی !

کہ تو اپنے زندہ دلوں کے لئے

خوب صورت اجالوں کی تصویر ہے

صبح سے شام تک تیری آبادیاں

ایک نئی زندگی لکھ رہی ہیں

ترے لوگ محنت کے ہر رنگ میں

ایک ایسا ہنر بن گئے ہیں

جو آئینہ بن کر چمکتے رہے ہیں

سیہ دھوپ کی شدتوں میں ترے درمیاں

آبشاروں کی آوازیں آتی رہی ہے

غضب آندھیوں کے سفر میں بھی ترے پرندوں کی پرواز

روشن چراغوں کا منظر دکھاتی رہی ہے

خزاں پوش رستوں میں بھی

تیر ے لوگ اپنے خوابوں کے پرچم اٹھائے ہوئے

خواہشوں کے کٹھن راستوں تک گئے ہیں

اجالے گھروں تک گئے ہیں

کہ تیرا ہر ایک سلسلہ بے تھکن ہے

کراچی ترے رہنے والے سمندر کی پہچان ہیں

ہر نئے عہد کا تازہ امکان ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لہو کی پوشاک

خوب صورت اجالوں کے اس شہر میں

امن آسودہ خوابوں سے باہر نکل کر

ہلاکت کے سیلاب میں گر گیا

پیار دست ہوس کی علامت بنا

ہم شکستہ بدن

مقتلوں کی لہو رنگ پوشاک پہنے ہوئے

ظلم کی آگ میں جل رہے ہیں

مگر کس کو آواز دیں

کون انصاف دے گا ہمیں

زرد کوچے میں سنسان رستے میں پرشور بازار میں

مسجدوں میں گھروں میں اجالوں کے دربار میں

چند پوشیدہ ہاتھوں کو خنجر چلانے کا اعزاز ملتا رہاہے

میری اجلی دعائیں بھی کالے عقابوں کی یلغار میں

فاختہ کو پناہیں نہیں دے سکی ہیں

مگر کس کو آواز دیں

کون انصاف دے گا ہمیں

زندگی کے چمکتے ہوئے ساحلوں پر سمندر نہیں

زخم سے زخم تک دکھ کے نادیدہ جنگل اتر آئے ہیں

آنکھ بے خوابیوں کی تھکن بن گئی

نیند پیاسے پرندے کی پرواز ہے

روح سے رو ح تک آنسوں نے جو لکھی وہ آواز ہے

اپنے چہروں کو ٹکروں میں کٹتے ہوئے دیکھ کر

ریزہ ریزہ ہوئے ہیں بہت

غم کی اڑتی ہوئی دھول میں جسم و جاں کھو گئے ہیں

مگر کس کو آواز دیں

کون انصاف دے گا ہمیں

رات کے اس سفر میں کوئی نوحہ گر بھی نہیں

کوئی آواز آسودگی معتبر بھی نہیں

خیمہ خیمہ چراغوں کے اندر سیاہ آندھیاں ہیں

کہ وحشت زدہ ماہ خورشید سیارگاں ہیں

بہت عکس ٹوٹے ہیں اور آئینے بد گماں ہیں

مگر کس کو آواز دیں

کون انصاف دے گا ہمیں

خوب صورت اجالوں کے اس شہر میں

قتل گاہیں بہت شہرتیں پارہی ہیں

کہ اخبار زندہ لہو چھاپتے چھاپتے مرچکے ہیں

مگر وہ مسیحا نہیں ہے کہیں جو کسی نوجواں لاش پر

باپ کی بوڑھی چیخوں کو سن کر کوئی اسم پڑھ دے

نہ مریم کوئی قتل گاہوں سے گزری

کہ صد چاک سینوں کو ممتا کا آسیب کہتی

اجالوں کے اندر سیاہ پوش لشکر چھپے ہیں

مگر کس کو آواز دیں

کون انصاف دے گا ہمیں

شہر کے حاکموں !

پتھروں کی حدوں میں کھڑے ہوکے تم

اپنے کالے ہنر آزماتے رہے ہو

فصیلوں سے اتری ہوئی بے خدوخال پرچھائیاں

تم ہمارے شکستہ گھروں میں بچھاتے رہے ہو

مگر تم کو معلوم ہے

ہم تمہاری عداوت کے ہر عہد میں

قتل ہوتے بھی ہیں اور ڈرتے نہیں

ہم اساطیر کا ایسا کردار ہیں

آگ میں جل بھی جائیں تو مرتے نہیں

ہرنئی شام

خوابوں کی دہلیز پر تازہ چہرے سجاتی رہی ہے

کہ ہم صبح کا تازہ امکان ہیں

اپنے سچے قبیلے کی پہچان ہیں

ہم شکستہ بدن

مقتلوں کی لہو رنگ پوشاک پہنے ہوئے

ظلم کی آگ میں جل رہے ہیں

مگر کس کو آواز دیں

کون انصاف دے گا ہمیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Contact # of Jazib Qureshi : (021) 34648001

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s