یہ کہانی کون لکھ رہاہے!

یہ کہانی کون لکھ رہاہے!


گذشتہ دس روز میں 100 افراد کی ہلاکت، اس شہر کراچی کا المیہ ہے، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ،ملک کی معاشی ترقی کا دروازہ اور محبت کی کہانی کا روشن باب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہونے کے باعث تمام لوگوں کے لئے منی پاکستان کی حیثیت رکھتا تھا، مگر آج اندھیرے میں ڈوبے اس شہر کے لوگ ماتم کناں ہیں۔ مسجدوں سے بلند ہونے والی آوازوں پر، گولیوں کی بوچھاڑ حاوی ہوتی جارہی ہے۔ درختوں پر بیسرا کرنے والے پرندے، اجنبی چہروں کے خوف سے ،اپنے گھونسلوں سے کبھی کا اڑ چکے ہیں، ویرانیوں نے دلوں میں گھر کرلیا ہے ، گھروں کے باہر جوانوں کے لاشے پڑے ہیں، ماؤں کی سفید چادروں نے کفن کی صورت انہیں پناہ دے رکھی ہے، ظلم کی یہ رات بہت لمبی ہے ، روتی ہوئی آوازیں ہر گھر کا دروازہ کھٹکٹا رہی ہیں، مگر اس کہانی کے لکھنے والے ہاتھوں کو ابھی اپنی بھوک مٹانے کے لئے ، بہت سی لاشوں ، آہوں اور سسکیوں کی ضرورت ہے۔

اس شہر کے ہر موڑ پر جلتے ہوئے چراغوں کو بجھانے لئے ، کتنے ہی نقاب پوش ، اپنی سیاہ چادروں میں بارود کی بارش چھپائے کھڑے ہیں۔

Advertisements

One response to “یہ کہانی کون لکھ رہاہے!

  1. کسی نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ کراچی والے بارود کے ایک ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ موجودہ صورتحال دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ کراچی ایک ایمولیشن ٹیسٹنگ سینٹر بن گیا ہے جہاں ہر وقت چھوٹے سے لے کر بڑے ہتھیار تک بے خوف و خطر استعمال کیے جا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s