اسلامی اور ثقافتی تہوار ، پاکستان میں !


اسلامی اور ثقافتی تہوار ، پاکستان میں !

کسی بھی ملک میں منائے جانے والا تہوار، اس ملک کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہے ، مگر بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں پاکستان میں اسلامی اور ثقافتی تہوار، اپنے ہمراہ کشت و خون کی بارش لے کر آ تے ہیں۔

ملک میں پھیلی اس دھشت گردی کی جب پہلی بوند گری تھی تو ہماری قوم سو رہی تھی، یہ احساس کسی کے لئے بھی قابل قبول نہیں تھا کہ مساجد میں نماز پڑھتے ہوئے نمازیوں پر گولیا ں برسائی جائیں گیں۔ رفتہ رفتہ دھشت گردی کی بالاخیزی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

اسلامی تہواروں میں، خصوصاٗ ماہ محرم ہمیشہ لہو کی سرخی سے لکھا جاتا ہے۔ روز بروز کے ہونے والے بم دھماکے ایک طرف، ماہ محرم جو حرمت کے مہینوں میں سے ایک ہے جس میں ہر قسم کی جنگ و خونریزی ممنوع ہے، مسلمان ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں۔ ہم میں سے کوئی ایک اس اجلے دن کو آگ وخون کی ہولی بنا دیتا ہے۔

بسنت کا تہوار، جب رنگوں کی ڈوریوں سے بندھی پتنگوں سے آسمان کا چہرہ ڈھک جاتا ہے، طرح طرح کے کھانوں کی خوشبو سے فضا مہک رہی ہوتی ہے، ڈھول اور دھمال سے ، زمین کا سینہ ڈھرک رہا ہوتا ہے، تو اسی رنگ بھرے پس منظر میں ، کسی کے گلے پر دھاتی دوڑ پھر جاتی ہے، اور بہت سے روشن گھروں میں سے ایک گھر، ماؤں اور بہنوں کی روتی آوازوں سے گونجنے لگتا ہے۔ کئی چھتوں سے بچے گر کر ہمیشہ کے لئے اپائج بن جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے ۔۔۔۔۔ ایسا ہر بار کیوں ہوتا ہے، ہم کیسی قوم ہیں ، جو اپنے اسلامی اور ثقافتی تہواروں کو منانا بھی نہیں جانتی ۔۔۔۔۔ ہماری خوشیوں کے راستے کربلا سے کیوں گزرتے ہیں۔

یہ کیسی قوم ہے ۔۔۔۔۔ جس کے پاس کسی بھی سوال کا جواب نہیں، محبت اور خوشی کے رنگ ہمارے چہروں پر ماند پڑتے جا رہے ہیں۔

Advertisements

2 responses to “اسلامی اور ثقافتی تہوار ، پاکستان میں !

  1. جن دو تہواروں کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ نہ تو مذہبی ہے نہ ثقافتی

    • My friend I want to point out two things. First of all u dnt seem to familiar with the word Culture. Let me put a definition of it in_front of you to add its meanings in your knowledge. A culture is a way of life of a group of people-the behaviors, beliefs, values, and symbols that they accept, generally without thinking about them, and that are passed along by communication and imitation from one generation to the next.

      Second

      MOHARAM IJTEMAA AND BASANT FESTIVAL IS A PART OF OUR CULTURE BECAUSE EACH AND EVERY SINGLE PERSON IS FOLLOWING THEM AND BY CALLING OUT A LARGE NO PEOPLE AND GATHERED THEM TO PLACE FOR MOHARAM IJTEMAA, WE ARE ACTUALLY PROVIDING EXTREMIST A FAIR CHANCE/ INVITATION TO COME AND DESTROY THE PEACE OF THE COUNTRY PLUS PROVIDING A CHANCE TO CITY THUG TO COME AND DESTROY,ROB AND LOOT ALL THE PUBLIC PROPERTIES AND TAKE OUT THE WHATEVER THEY POSSIBLY CAN. OUR CITY ADMINISTRATION AT THAT TIME VANISHED OR USUALLY SLEEP AT HOME TO AT LEAST SAVE THEIR LIFE BY LEAVING THOUSAND OF INNOCENT PEOPLE TO HELP THEM SELVES

      WE ALL MUST TAKE A STEP TO ELIMINATE THIS CATEGORY OF EVENT ,FROM OUR CULTURE. IF NOT THEN WE ALL MUST LEAVE IT TO ALLAH MAY ALLAH BLESS US ALL AND BLESS OUR PAKISTAN…

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s