عصر رسالت کے شعرا ء کا تعارف

عصر رسالت کے شعرا ء کا تعارف

 (بقلم:مجاھد علی مطھری) 

جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٥٧٠ ئ میںمتولد ہوئے تو اس وقت جزیرةالعرب اور قوم عرب سیاسی اور اجتماعی بحران سے دوچار تھے . محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ابتدائی زندگی یعنی بچپن یتیمی میںگزارا ، وہ اپنی قوم کے حالات سے خوب واقف تھے ، اپنی قوم کے حالات دیکھ کر بہت رنجیدہ رہتے تھے . جب جوانی میں داخل ہوئے اور لوگوں کو بتایا کہ میں خدا کا منتخب کردہ نبی ہوں ، دین اور کتاب لایا ہوں اس وقت لوگوںکو توحید اور اسلام کی دعوت دینا شروع کردی . عرب کے لوگ اس وقت دو گروہوںمیںبٹ گئے . ایک گروہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کا ساتھ دیا اور دوسرا گروہ ان کا دشمن بن گیا اور ان کے مقابلے میں آگیا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اور کفار مکہ کے درمیان اختلافات حد سے زیادہ بڑھ گئے اور انہوںنے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو اذیت دینا شروع کردی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ  ٦٢٢ ئ کو مکہ سے ہجرت کرکے یثرب یعنی مدینہ تشریف لائے ،یہ واقعہ مسلمانوں کی تاریخ کا آغاز تھا . اس کے بعد مسلمانوں اور کفار کے درمیان بہت سی جنگیں ہوئیں جن میں اکثر میںاسلام کو کامیابی ملی . رسول خدا ۖ نے اپنے اخلاق او رحسن سلوک کے ذریعہ بیشتر عرب قبائل کو اسلام لانے پر راغب فرمایا او ران کو اپنی رعیت میں شامل کردیا . وہ عرب رسول خدا ۖ سے اتنے مانوس ہوئے کہ اپنی جانیں رسول خدا ۖ  پر دینے کے لیے تیار ہو گئے . اور ایک بہت بڑی فوجی طاقت کی بنا ڈالی کئی ملک او رشھر فتح کئے اور اس طریقے سے ایک عرب یا اسلامی حکومت وجود میںآئی. جو وحدت عرب کا جلوہ بھی تھی اور وحدت اسلامی کے ثمرہ سے سرشاربھی . خدا وند عالم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو جزیرہ عرب میں ہدایت کے لیے منتخب فرمایا تھا اور اس وقت عرب میں شعر و شاعری کا عروج تھا بڑے بڑے شعراء اس وقت موجود تھے کہا گیا ہے شاعری اس وقت اتنی عروج پر تھی کہ اکثر لوگ آپس میں بات بھی نظم یا شعر سے کیا کرتے تھے . اس وقت شاعری کے لحاظ سے دو بڑے قبیلے اوس اور خزرج مشہور تھے جن قبیلوں میں شعراء کی تعداد بہت زیادہ تھی ذیل میںہم ان شعراء کا تذکرہ کریں گے ۔

 اس زمانے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے آکر حق کی آواز بلند کی اس حق کی آواز کو معروف کرنے اور اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے آپ کو ان شعراء اور ادیبوںکا مقابلہ کرنا تھا . اس لیے خدا وند عالم نے آپ کو قرآن بطور معجزہ دے کر بھیجا تاکہ آپ ۖان عربوں ، شاعروںاور ادیبوںکا مقابلہ کرسکیں . وہ جوعربی ادب کے دعوی دار تھے وہ بھی سر جھکا کر قرآنی آیات کو سلام کرنے لگے . اور کہنے لگے کلام محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ فصیح ہے تاریخ عرب میں نہ ایسا فصیح کلام ملا ہے نہ ملے گا . اس لیے کہ خدا نے ہر نبی کو اس دور کے مطابق معجزہ عطاکیا ہے . حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں سحر زیادہ تھا تو ان کو عصا کا معجزہ ملا . حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں مرض اور طبابت کا عروج تھا اس لیے ان کو مسیح بناکر بھیجا گیا جو برص اور بڑے بڑے مرضوں کا معالج قرار دیا گیا حتی کہ مردوںکو زندہ کرنے لگے . رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے زمانے میں شعر و شاعری کا عروج تھا اس لیے آپ کو قرآن جیسا فصیح کلام دے کر دیگر عرب ادیبوں پر برتری دے دی . نثر عرب زبان میں شعر سے کم دریافت ہو ئی ہے . کیونکہ عرب زبان خود زمانہ جاہلیت میںجو عرب زبان کا ادبی لحاظ سے سنہری دور شمار کیا جاتا ہے . نثر بہت کم مقدار میں دریافت ہوئی ہے لیکن اس کے مقابلے میں شعر بہت زیادہ ملا ہے . نثر کا کم ہونا اس کا سبب یہ نہیں کہ عرب نثر سے روگردان تھے بلکہ ہم دیکھتے آئے ہیں کہ اہل قوم خطابت ، ضرب المثل ، روایت قصو ںاور تاریخی خیالات کے مشتاق تھے لیکن پھر بھی نثرکے مقابلے میں شعر کو ترجیح دیا کرتے تھے اور نثر کے ادیب لوگ اتنے مشہور نہیں تھے جتنے شعر کے ادیب لوگ یعنی شعراء حضرات مشہور اور پسندیدہ تھے . خود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے پہلے اور بعد میں دنیائے شعر میں ایسی ایسی شخصیتیںملی ہیں جن کا ثانی آج تک نہیں ملتا . وہ بڑے بڑے شعراء تھے ان میں سے جو عصر رسالت میں موجود تھے ان میں سے بعض ایمان لائے اور بعض کافر مرے ہیں لیکن ان کا ادب کے لحاظ سے ثانی موجودد نہیں . کیونکہ ہمارے مضمون کا عنوان بھی یہ ہے کہ عصر رسالت کے شعراء کا تعارف اعم از مسلم ہے و غیرہ . اس لیے بندہ حقیر نے کوشش اور سعی کی ہے کہ جتنا ہو سکے عصر رسالت کے شعراء کا کچھ مختصر تعارف کرایا جائے اور اسکے ساتھ میں ” بزم رأفت ” والے برادران شعراء کا بہت شکر گذار ہوں جنہوں نے یہ برنامہ تشکیل دیا ہے۔ تاکہ ہم تحقیق بھی کریں اور ادب سے دلچسپی بھی بڑھے . ویسے تو عصر رسالت میں بہت سارے مشہور شعراء ملتے ہیں لیکن ہم یہاں پر بعض کا ذکر کریں گے جو کہ زیادہ مشہور تھے ان شعراء کے زندگی ناموں کو لینے کے لیے بہت سی کتابوںکا سہارا لیا گیا ہے .

 حسان بن ثابت

حسان بن ثابت کا پورا نام ابو الولید حسان بن ثابت تھا اور یہ خزرج قبیلے سے تعلق رکھتا تھا . یہ قبیلہ یمن سے ہجرت کر کے حجاز میں آیا تھا اور یہ قبیلہ اوس کے ساتھ مدینے میںسکون پذیر ہوا تھا . حسان بن ثابت ولادت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آٹھ سال پہلے مدینے میںپیدا ہوا . اس کا خاندان نہایت شریف ، ہر دلعزیز  اور غزل کا مشتاق تھا . ایسے ماحول میںحسان نے پرورش پائی. زمانہ جاہلیت میںمدینہ میدان نزاع اور کشمکش کی جگہ تھی جہاںاوس اور خزرج جیسے دوبڑے قبیلے مد مقابل تھے . اور دونوںقبیلے شاعری کے لحاظ سے قوی تھے . قبیلہ اوس کا مشہور شاعر قیس بن خطیم اور قبیلہ خزرج کا شاعر حسان بن ثابت تھا.

حسان نے اپنے خاندان اور قبیلے کا دفاع کیا اور خودان کے بزرگوں نے اسکی حوصلہ افزائی کی اور بہت کم مدت میںاس نے عرب کے دوسرے بلاد میںبھی شہرت حاصل کرلی حسان بادشاہوںکیے دربار میںبھی گیا اور وہاںاپنے فن کا مظاہرہ کیا اور عرب کے بڑے بڑے شعراء مثلاً نابغہ الذبیانی اور علقمہ الفحل کے ساتھ اپنے شعر پڑھے اوردربار سے انعامات اور جائزے حاصل کئے،جن کی وجہ سے حسان توانگر ہوگیا . اس زمانے میںحیرہ بادشاہ کے پاس ابو قاموس نعمان بن منذر گیا اور نابغہ کا جانشین بن کر وہاں شعر پڑھنے لگا. جب اس نے حسان کی ادبی صلاحیتوںکو دیکھا تو اس کو نابغہ کی جگہ پر آنے کو کہا لیکن حسان اپنے قبیلے میںاستاد کی حیثیت حاصل کر چکا تھا اور اسلام بھی لاچکا تھا اور رسول خدا ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھی رہ چکا تھا اور مدح رسالت بھی کر چکا تھا اس لیے اس نے حیرہ کو جواب دے دیا ، حسان ساٹھ سال کی عمر میں اسلام لایا .   اور اپنی شاعری کو دین کی خدمت میںوقف کردیا . قریش کے شاعروںکے حملوںکا جواب دیتا رہا . رسول خدا ۖ اور اسلام کا دفاع کرتا رہا . رسول خدا ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا ن کے اشعار کو سراھا اور خود رسول خدا ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا حجرہ اپنے گھر کے ساتھ بنایا اور بیت المال سے ان کا وظیفہ مقرر کیا .

 سیرین نامی عورت جو رسول خدا ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ماریہ قبطیہ مادر ابراہیم کی بہن تھی اسکو بخش دی اور وہ قصرجو ابو طلحہ نے آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وقف کیا تھا حسان کو بخش دیا . لیکن حسان ایک بزدل انسان تھا اس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں فقط اشعار پر اکتفا کیا شمشیر کے ساتھ کسی بھی جنگ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیںگیا. رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد حسان مہاجر اور انصار کے درمیان نزاع میںآگیا اور آخر کار انصار والوںکا ساتھ دیا اور عثمان کے طرفداروںمیںسے ہو گیا. اور اور قتل عثمان پر اس نے نوحہ لکھا . حضرت علی علیہ السلام کو عثمان کے قتل کا ذمہ دار ٹہرایا . حسان بن ثابت کا ایک دیوان ہے جو بارھا مرتبہ چاپ ہو چکا ہے خصوصا ً نوین صدی ہجری میںوہ مصر ہندوستان ، تیونس میںطبع ہو چکا ہے . کیونکہ حسان دینی اور سیاسی لحاظ سے خاص موقعیت رکھتا تھا اس  لیے اس کے اشعار بہت زیادہ مشہورہو گئے . اور یہ کا م دشمنان اسلام پر بہت گراںگزرتا تھا . بعض تاریخ پیغمبرۖ لکھنے والوںمثلا ً ابن اسحاق ، ابن ہشام نے ان کے اشعار کو بہت تلخیص اور تہذیب کے ساتھ سیرت پیغمبرۖ میںلکھا ہے . اور ان اشعار کا بھی تذکرہ کیاہے جو اس نے مدح نبی ۖ میں لکھے تھے . حسان کے اکثر شعرہجائی ہیںباقی انصار کے افتخارات ، مدح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،بادشادہ غسانی ، بادشاہ حیرہ کی مدح اور دیگر عرب اشراف اور سرداروںکی مدح میں لکھے ہوئے ہیں. حسان بن ثابت کے اشعار کو چار حصوںمیںتقسیم کیا گیا ہے

(١) حسان شاعر قبیلائی : یہ حصہ حسان کی شاعری کا زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھتا ہے . اور اس میں فخریہ اشعار ہیں.

(٢) حسان شاعر تکسب: یہ وہ قسم ہے جس میں حسان نے دربار کی مدح اور بادشاہوں کی مدح میںشعر کہے ہیں انعامات حاصل کرنے کے لیے .

(٣) حسان شاعر اسلام: اس قسم میںحسان نے سیاسی مذہبی اور دینی شعر کہے ہیں اور اس قسم میں مدح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  والے اشعار بھی شامل ہیں.

(٤) حسان شاعر لھو: اس قسم میں وہ اشعاراور غزل شامل ہیں جولھو ولعب اور شراب خوری کے متعلق ہیں . اس قسم کا تعلق بھی زمانہ جاہلیت سے ہے .

اس سے پہلے کہ حسان اسلام کی طرف آئے اس کے اشعار جاہلی تھے . وہ اپنے قبیلے کے دفاع میں تھے . حسان نے اپنی قوم کے دفاع کو اپنا وظیفہ سمجھا تھا . حسان کے لیے وہ وقت آزمایش کا تھا جس وقت اس کے قبیلے کا جھگڑا اوس قبیلے سے تعلق رکھتا تھا .دونوں کے درمیان ادبی جنگ شروع ہوئی . ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ وہ دوسرے قبیلے کونیچا دکھا کر اپنے قبیلے کو بلند کرے . اور ان کے فخر کو آشکار کرے .

حسان نے اس دور میںاپنی قوم کا فخر ظاھر کیا اور اپنی قوم کے متعلق ان کی شجاعت ،کرم ، شرف ، حسب و نسب کو عیاںکیا حسان بن ثابت نے اپنے دشمن شاعر قیس بن خطیم کے رد میںیہ غزل لکھی جو بہت مشہور ہے .

لعمر ابیک الخیر یا شعث                        ما بنا علی لسانی فی الخطوب ولا یدی

لسانی و سیفی صامان کلھما                 و تبلغ  مالا  یبلغ  السف  مذودی

وانی لمعط ماوجدت و قائل                   لموقد ناری لیلة الریح ” اوقد”

حسان نے اس کے علاوہ مدح اسلام اور مدح رسول خدا ۖ میں بھی کافی اشعار کہے ہیں ایک مشہور شعر جو حسان نے مدح اسلام اور رسول ۖ میںکہا تھا. اس میںاثبات رسالت پیامبر ۖ کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے . اس شعر میں حسان نے اپنے قلبی عقیدہ کا اظہار کیا ہے . یہ شعر دنیا اور مادیات سے خالی ہے .

بھنی اتانا  بعد  یاس و فترہ                          من الرسل والاوثان فی الارض تعبد

خامسی نالاً مستنیراً وھادیا ً                       یلوم   کما لام    المقیل     المھند

وانذر  نا نالاً و   بشر جفة                            وعلمنا   الاسلام   فا  اللہ  نحمد

وانت الہ الخلق ربی و خلقی                       بذالک ماعمرت فی الناس اشھد ”

اس کے علاوہ بھی حسان نے مدح رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اشعار کہے  تھے . آخر کا ر یہ مداح رسول ۖ اور عرب کا بزرگ ترین شاعر عھد معاویہ میں ٥٤ھ کو دار فانی سے کوچ کر گیا . حسان بن ثابت کا زندگی نامہ حسب ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الحیاة الادبیة بعد ظہور الاسلام ، چاپ قاھرہ۔   (٢) الروائع حسان بن ثابت، چاپ بیروت ۔

(٣) شاعر الرسول الثقافة فی الاعداد ۔             (٤) ادباء العرب ، ج  ١ ، چاپ بیروت ۔

کعب  بن زھیر

جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی دعوت عام شروع کی تو ان کے اور قریش مکہ کے درمیان ایک آگ والی جنگ شروع ہو گئی شاعران قریش نے خود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی دعوت کو قریش پر ہجوم قرار دیا، اس طرف سے عربی ادب کے بڑھ بڑھ شاعر موجود تھے . جو اپنی ادبی صلاحیتوںسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کو حقیر کرنے کی پے در پے کوشش کر رہے تھے . جن میں عبد اللہ بن زبعری ، عمرو بن العاص . ابو سفیان بن حارث سر فہرست تھے . ان لوگوںکا کہنا تھا کہ جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرفداری کررہے ہیںان کے پاس کیا ہے جو ان کے طرف جارہے ہیں.

اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول خداۖ سے اجازت مانگی کہ ان سے مقابلہ کریں. ان میںسے حسان بن ثابت ، کعب بن مالک اور عبد اللہ بن رواحہ تھے کہ وہ شعراء قریش سے مقابلہ کریں، اسلام اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کریں کیونکہ قریش کے اشعارنبیۖ کے خلاف تھے . اور اسلام کی اہانت میںتھے . اگر یہ مقابلہ ہوتا تو وہ اشعار آشکار ہوتے اور مقام رسالت کی اہانت ہوتی . مسلمانوںکے درمیان فساد ہوتا کفار متحد ہوتے . اس لیے نبی اکرم ۖ نے اس مبارزہ کی اجازت نہیںدی تھی .

کعب بن زھیر وہ پہلا قریش کا شاعر تھا جس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کے خلاف اشعار لکھے تھے پھر بعد میں پشیمان ہوا اور ان اشعار کا ازالہ کیا . کعب بن زھیر بن ابی سلمی قبیلہ غظفان سے تھا اسکی ماںقبیلہ ام کبشہ سے تھی . وہ اس  ماحول میں پرورش پاتا ہے جو سب کے سب ادیب تھے .نسل ابو سلمی ‘ جو کعب کا جد تھا ‘ سے گیارہ نسلیں شاعر تھیں کعب نے اپنے بچپن میںہی نظم پر عبور حاصل کر لیا تھا . لیکن اس کے باپ نے اس سے منع کیا کہ وہ اپنے اشعار کو ظاہر کرے . جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعوت کو آشکار کیا تو اس زمانے میںکعب کے اشعار بہت مشہور تھے . اس کے بھائی بجیر نے اسلام قبول کیا تو کعب نے اس کی ملامت کی کہا کہ تم نے وہ دین قبول کیا ہے جو ہمارے آباء واجداد میںسے کسی کا نہیںہے . اس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بد دعا دی وہ مھدور الدم ہو گیا . کعب نے ہر قبیلے سے پناہ مانگی لیکن کسی نے اس کو پناہ نہ دی ۔

 اس کے بھائی نے اس کو اسلام کی جانب مائل کیا کیونکہ کعب کے پاس کوئی اور پناہ گاہ نہ تھی . اس نے اسلام قبول کیا اور ایک قصیدہ لکھا بنام ” بانت سعاد” پھر وہ مدینے آیا وہ قصیدہ رسول خدا ۖ کے سامنے پڑھا آپ نے اسے معاف کر دیا اور پناہ دے دی .

کعب کا ایک دیوان بھی ہے لیکن وہ اتنا گرانقدر نہیںہے کیونکہ اگر اس سے قصیدہ ” بانت سعاد ” نکال لیا جائے تو اس میںکوئی بھی اچھی چیز باقی نہیں رہتی . کیونکہ اس کے کچھ موضوعات معمولی ہیں . اس میںمدح و غزل اور ورثاء جیسے اہم چیزیں کم ہیں . لیکن اسکے بہترین اور گرانقدر اشعار وہ قصیدہ بانت سعاد ہے یہ قصیدہ” المشوبات ” کے زمرے میں آتا ہے . اس قصیدے میں تقریباً ٥٨بیت ہیں . جن کی شرح کافی علماء نے کی ہے . جن میں ابن درید خطیب تبریزی ، ابن ہشام ، باجوری ، یہ قصیدہ بارہا ایشیا اور یورپ کی مختلف زبانوںمیں چھپ چکا ہے . مثلا ً  لا طینی ، فرینچ ، جرمنی ، انگلش اور اٹلی وغیرہ. قصیدہ بانت سعاد میںتین قسم کے اشعار ہیں .

(١) مقدمہ غزل میںقدیم شاعروںکے عادت  ۔١۔ ١٢.

(٢) اس ناقہ کی وصف جو شاعر کو معشوق تک پہنچائے  .  ١٣۔ ٣٣.

(٣) مدح پیامبر ۖ اور مدح مہاجرین  ٣٤۔٥٨.

کعب اپنے باپ اور استاد کے بہت زیادہ اوصاف رکھتا تھا وہ جزئیات جن کو اس کے باپ نے اس کو پرورش کئے تھے . تجلی کرنے لگے . اس کے ایسے اوصاف تھے . جو اس کے کلام میں موجود رہتے تھے . وہ اوصاف اتنے طاقتور و حرکت والے تھے جو اس کی شاعری کو عیاں کر دیتے تھے . کعب کے اشعار میں صناعت آشکار ہے  بعض اس کے ایسے اشعار دیکھے گئے ہیں . جن کی مضامین ذہن کو جذب کر دیتے ہیں . جو اس کی فصاحت و بلاغت کا واضح ثبوت ہے . کعب بن زھیر نے بھی مدح رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہت سارے اشعار کہے ہیں اس کی ایک غزل جو مشہور ہے اس میں اس نے رسول خدا ۖ کو نور سے تشبیہ دی ہے . جس نور سے تلواریںبھی روشنی لیتی ہیں.

ان الرسول لسیف یستضاء بہ                         مھند من سیوف اللہ مسلول

عصبہ من قریش قال قائلھم                             ببطن ملہ لما اسلو”معازیل ”

زالو خمازال انکا س ولاکشف                          ون اللقاء ولامیل معازیل ”

جب کعب نے اسلام قبول کیا تو مکہ والوں نے اس کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا بالآخر اس نے مکہپ سے مدینے کی طرف ہجرت کی، یہ کعب بن زھیر کے اشعار تھے جن سے بلاغت و فصاحت کے چشمے پھوٹ رہے تھے .  کعب بن زھیر کی زندگی نامہ کے لیے مندرجہ ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا ہے .

(١) الروائع کعب بن زھیر، چاپ بیروت ۔

(٢) شعر الطبیوفی ادب العربیہ ، چاپ قاھرہ

(٣)  حدیث الاربعاء ،ج١ ، چاپ ثانوی .

ابو  ذئویب الھذلی

ابو ذئویب خویلد بن خالد الھذلی النزاعی کا شمار ان شعراء میں ہوتاہے جنہوں نے زمانہ جاہلیت کو درک کیا تھا .ابو ذئویب نے اسلام کو قبول کرنے کے بعد مدینہ میں سکونت اختیار کی ابتدائی اسلام کی بہت ساری غزواة اور فتوحات میں شریک ہوا اس نے عثمان کا دور خلافت بھی درک کیا . ابوذئویب عبد اللہ بن سعد کے لشکر کے ساتھ شمال آفریکا گیا . اوراس فتح میںشریک ہوا . بعد میںعبد اللہ ابن زبیر کے ساتھ مصر میں آیا اور تقریبا ً  ٦٤٢ئبمطابق ٢٦ ھ کو وہاںہی وفات پائی . ابو ذئویب کے قصائد بہت سارے ملتے ہیں. ابن قتیبہ ان میںسے بعض کو اپنے کتاب ” الشعرو الشعراء ” میںلایا ہے . ابو ذئویب کا مشہور ترین شعر ” قصیدہ عینیہ ” ہے جو اس نے اپنے پانچ بیٹوں جو مصر میں طاغوت کے ظلم سے وفات کر گئے تھے کے رنج میںلکھا تھا وہ یہ ہے .

والد ھر سیس معتب من یجزع                          امن المنون و ریبہ تتوجع ”

ابو ذئویب کے اشعار رنج دہندہ تھے جس طرح ایک اور ان کا مصرع ہے جو کہ بہت غم دینے والا ہے .

 ”فالعین بعدھم کا حداقھا                          کحلت بشوک فھی عور تدمع ”

ابو ذئویب نے یہ اشعار اپنی روح کی تسکین کے لیے کہے تھے اور وہ ان بیتوں کی وجہ سے بہت مشہور ہوا

واذا المنیةانشبت اظفارھا                              الفیت کل تمیة لاتنفع

اس کا سخن، روان اور منسجم ہے اور تکلف سے عاری ہیں ۔

 ابو ذئویب کے زندگی نامے کیلیے حسب ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا .

(١)دایرة المعارف ، ص ١٥٠۔        (٢) حیاة الادبیہ بعد ظہور الاسلام ص ٢٣٨ ، چاپ قاھرہ۔

نابغہ الجعدی

ابو لیلی حسان بن عبد اللہ الجعدی العامریکو نابغہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے عصر جاہلیت کو درک کیا اور فوراً جب اسلام نے ظہور کیا تو وہ اسلام میں داخل ہو گیا نابغہ زمانہ جاہلیت میںعزت دار زندگی گزار رہا تھا۔جب اسلام نے ظہور کیا وہ ایک گروہ کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام لایا ایسی بہت ساری زندگی مہاجرت میں گزاری اس کا شمار یاران حضرت علی علیہ السلام میںہوتا ہے . اور اس نے معاویہ اور بنی امیہ سے بہت سختیا ں برداشت کیں . جنگ صفین میںحضرت علی علیہ السلام کے لشکر میںشامل تھا اپنی زبان اور شاعری کے ذریعے ان کی مدد کی .

حضرت علی علیہ السلام کے بعد جب عبد اللہ بن زبیر نے یزید اور مروان پر خروج کیا تو وہ عبد اللہ ابن زبیر کے ساتھ ہو گیا اس کی مدح میں اشعار لکھے اور ابن زبیر سے انعامات حاصل کئے . جب فتنے زیادہ ہو گئے تو اس نے ان بلاد کا قصد کیا جو مفتوح ہو چکے تھے . باالاخر وہ اصفہان میں آیا وہاں اپنی باقی زندگی گزاری نابغہ سے بہت سارے اشعار، ھجا ، مدح اور رثاء میں ملتے ہیں . وہ اپنے اشعار میںگھوڑے کی وصف کرنے میںبہت مشہور تھا اس کے مشہور قصائد میں سے یہ قصیدہ ہے جو اس نے مدح رسول خدا ۖ میں لکھا تھا ۔

 ” خلیلی عوجا ً ساعة و تھجرا               ونوحا علی مااحدث الدھر او ذرا .

نابغہ ایک طبیعی شاعر تھا . نابغہ نے اپنے اشعار میںتنقیح کو ظاہر کیا ہے

 . نابغہ   ٦٩٩ئ  برابر  ٨٠ھ کو اصفہان میں انتقال کر گیا . نابغہ کی زندگی نامے کو مندرجہ ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) جواھر الادب، ج ٢، ص ١٦٢.

(٢) الحیاة الادبیہ بعد ظہور الاسلام، ص ٢٩٨.

قیس بن سا عدہ

قس بن ساعدہ اپنے زمانہ کا خطیب ، حکیم او رقاضی العرب تھا وہ نجران میں رہتا تھا . قیس بن ساعدہ بازار میں زیادہ جایا کرتا تھا  . لوگوں کو اپنے اشعار سناتا تھا . لوگوں کو بت پرستی سے اپنے اشعار کے ذریعے روکتا تھا . خداوند کے غضب اور قہر سے لوگوں کو ڈراتا تھا . وہ خود دنیا اور اس کی رنگینیوں سے بیزار تھا . اپنی حاجت کے مطابق اکتفا کرتا تھا . لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتا تاکہ وہ ایک کی عبادت کریں اور اس کو سجدہ کریں .

وہ بہت بڑی عمر کے ساتھ  ٦٠٠ء کو انتقال کر گیا . اس کے سخن صنایع لفظی سے دور تھے اس نے بڑے بڑے مطالب کو کوتاہ جملوں بند کر دیا تھا .وہ اپنے کلام میں مثال لاتے وقت بڑی توجہ رکھتا تھا اس کا وہ خطبہ جو اس نے بازار ” عکاظ ” میں کہا تھا . جو راویوں نے روایت کیا ہے . وہ ایک ادب کا شاہکار ہے اس خطبے کا ثانی  عربی ادب میں نہ ملا ہے نہ ملے گا . وہ خطبہ یہ ہے .

ایھا الناس اسمعو ا وعو و اذا وعیتم فانتھو آت آت . مطر و نبات و ارزق و اقوات و آبا ء و امھات و احیاء و اموات و جمع و شتات و آیات بعد آیات لیل موضوع و سقف مرفوع”

قیس بن ساعدہ نے دوسرے بھی بہت سارے خطبے لکھے ہیں اور بہت ساری غزل ،بیت، مدح والے اشعار لکھے ہیں جو مختلف کتابوں میںموجود ہیں . ان کا زندگی نامہ حسب ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١)حجز الاسلام،ص٦٠، چاپ قاھر ہ

(٢) الفن و مذاھبہ فی النشر العربی،ص٣،چاپ قاھر ہ .

(٣) قطور الاسالیب النشریہ دی الادب العربیہ،ص٢٦،چاپ بیروت .

اکثم  بن صیفی

اکثم بن صیفی بن ریاح بن حارث تمیمی اپنے زمانے کا مشہور ترین حاکم ، خطیب اور قاضی العرب تھا .

 زمانہ جاہلیت میں وہ نیک مرد مشہور تھا. اسکی قضاوت سے عرب بہت مانوس تھے جو بھی وہ فیصلہ کرتا تھا لوگ اس کی خلاف ورزی نہیںکیا کرتے تھے . کیونکہ اس کے سخن حکمت آمیز تھے جو بعد میں ضرب المثل بن جاتے تھے . ۔

کہا جاتا ہے کہ نعمان منذر نے نوشیروان کی دربار سے عربوں کے بارے میں کوئی بات سنی تھی . جو اس پر گراں گزری تھی اس نے سوچا کہ عربوں کی ہوشیاری اور فضل کو نوشیروان کی کسری میں پہنچا ئے ،اس گروہ میں اکثم بن صیفی بھی تھا اکثم نے وہاں اپنا مشہور خطبہ خسرو کی دربار میںپڑھا جو عظمت اور حکمت سے سرشار تھا . وہ یہ ہے .

        ” ان افضل الاشیا ء اعالیھا          واعلی الرجال ملوکھم و افضل

           الملوک اعمھا نقعا ً…  اصلاح فساد الرعیة خیر من اصلاح

          فساد الراعی شر البلاد لا امیر شر الملو ک من خافة البریئ.

         جب اکثم کا ووقت مرگ قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوںکو جمع کیا ان کو نصیحتا ً کہا

” یا بنی الذھر ادبنی و قر احببت ان اودیکم و ازودیکم امر اً یکون لکم بعدی معملاً یا بنی تبارو فان البر ینسی فی الاجل و ینھی العدد و کفو السنتکم فان مقتل الرجال بین فکیہ ”

اکثم کا یہ شیوہ تھا کہ وہ عقل کو اپنے سخن پر حاکم رکھتا تھا . غلو اور مبالغہ سے دوری رکھتا تھا . اپنے کلام میںاعجاز حکیمانہ کو بیان کیا کرتا تھا . تالیف وحدتی کی رعیت کرتاتھا . اکثم نے   ٦٣٠ئ  برابر  ٩ھ  میں وفات کی . اکثم کا زندگی نامہ مندوجہ ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الخطابہ عبد العرب،چاپ قاھرہ،٢المشرق،ص٩٩.

(٢) ایام العرب دی الجاھلیة، چاپ قاھرہ .

حطئیہ

اس کا اصل نام جرول بن اوس معروف بہ حطئیہ تھا . جو عبس کا رہنے والاتھا . اس کی والدہ کا نام ضراء تھا . اس کے بھائیوں نے چاہا کہ اس کو اپنے ساتھ خاندان میں ملحق کر دیں. لیکن اسنے قبول نہ کیا۔

 اس کی ماںبنی ذھل قبیلے سے تھی انہوںنے بھی درخواست کہ وہ ان کے ساتھ مل جائے لیکن اس نے انکار کردیا .

اس کے بعد اس کی زندگی بے رنگ ہو گئی . پھر وہ قبیلہ بہ قبیلہ پھرتا رہا کچھ کچھ شرم کے فضائل اس میں موجود تھے پس اس نے اپنے کسب کا ذریعہ شاعری کو قرار دیا اگر کوئی اس کو کوئی چیز دے دیتا تو وہ اس کی مدح کرتا اگر نہ دیتا تو وہ اس کی ھجا کرتا . اس کی زندگی سخت گزرنے لگی . وہ مشکلات میںگھرتا گیا .

بالاخر حطئیہ نے ام ملیکہ نامی ایک عورت سے شادی کردلی، وہ دوسرے لوگوں کی نسبت اپنی بیوی اور بیٹوں سے سخت رویا رکھتا تھا . اس سے آشکار ہوتا ہے کہ اس کوعکس العمل کہا جاتا ہے . اس کی زندگی سخت پر تلاش اور بی ثمر ہونے کے علاوہ او رکچھ بھی نہ تھی۔ حطئیہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری زندگی میںاسلام لایا . پھر بھی اس کا ایمان اسقدر نہ تھا اس کا ایمان دل میںداخل نہیں ہوا تھا . وہ آخری عمر تک ضعیف الایمان رہا . حطئیہ تقریباً   ٦٧٩ئ  میںوفات کرگیا اس نے آخری عمر میںجب موت کو قریب دیکھا تو کہا مجھے گدھی پر سوار کرائو . مرد بزرگ بستر پر نہیںمرا کرتے . اس نے دم نہ توڑا .گدھے سواری کرتا رہا . آخر میںاس نے یہ اشعار کہے ”

لا احدالام من حطئیہ ھجا بینہ و ھجا المریہ ۔۔ من لئومہ مات علی ضریہ

 حطئیہ کا ایک دیوان ہے جو کہ کافی راویان کے پاس موجود تھا اس دیوان کو پہلی مرتبہ  ١٨٩٠ئ  قسطنطنیہ میں، دوسری مرتبہ  ١٨٩٣ ء  لایپزیک میں، تیسری مرتبہ  ١٨٠٥  ء کو مصر میںچھپا. اس کا دیوان مدح ، ھجو ،فخر ، اور غزل پر مشتمل ہے . حطئیہ نے اپنی ما ں کے دوسرے شوہر کے ہجا میںیہ شعر کہا ؛

               لماک  اللہ ثم لماک حقا                                   ابا ولعاک من عم و خال

     فنعم الشیخ انت لدی المضازی                                وبئس الشیخ انت لدی المعالی

        صمت اللوم لا حیاک رہی                                      وابواب    الشفاھة   و الضلال

حطئیہ نے شاعری کو وسیلہ معاش قرار دیا تھا لیکن پھر بھی وہ ہنر شاعری سے غافل نہ تھا . پس یہ زھیر ابن ابی سلمی کا پیر و تھا اور اس کی تقلید کیا کرتا تھا . حطئیہ کا زندگی نامہ حسب ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الاربعا ء ج١ چاپ قاھرہ          (٢) الروائع حطئیہ  ص ٢٩  چاپ بیروت                                       (٣) الادیب ص ٩.

خنسائ

اس کا اصلی نام ام عمر و بنت عمرو ابن شریر تھا یہ خنساء کے نام سے مشہور تھی . اسکا تعلق بنی سلیم سے تھا .

اور وہ تقریباً ٥٧٥ئ میں پیدا ہوئی . اسنے دو شادیاںکیںپہلے شوہر کا نام عبدلعزی تھا جس سے اس کو ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عمرو تھا . اس کا دوسرا شوہر مرداس السلمی تھاجس سے اس کو کافی بیٹے پیدا ہوئے . اسکے دو بھائی معاوضہ اور صخر بنی سلیم کے بزرگ تھے جب وہ مارے گئے تو خنساء نے ان کے لیے بہت گریہ کیا . حتی کہ نابینا ہوگئی . صخر ایک صفات عالیہ عرب بدو تھاجو شجاعت کرم اور وفا سے آراستہ تھا . خنساء سے بہت ساری عمر پائی حتی اسلام دریافت کیا جب مسلمانوںنے ایران پر حملہ کیا تواس کے بیٹے قادسیہ کے مقام پر قتل ہو گئے . جب یہ خبر خنساء تک پہنچی کہ اس کے بیٹے مارے گئے ہیںتو اس نے کہا خدا کا شکر ہے کہ وہ مقام شہادت پر فائز ہوئے خدا مجھے بھی ان کے ساتھ جائے رحمت میںجگہ دے . خنساء نے تقریبا  ٦٦٤ئ  ٨٩ سال کی عمر میںوفات پائی . خنساء کا ایک دیوان ہے جو سارا اس نے اپنے بھائیوںخصوصا ً صخر کے مرثیے میںلکھا ہے . یہ دیوان کئی مرتبہ چاپ ہوا اور اس کا ترجمہ بھی کئی زبانوں میںہوچکا ہے . الیسوئی نے خنساء کے دیوان پر خاص توجہ دی ہے . اور اس پر ایک شرح بھی لکھی ہے .

 بنام ”انیس الجلساء فی شرح دیوان الخنساء ” جو ٨٩٥ئ میںطبع ہو چکا ہے . خنساء وہ عورت تھی  جو اپنے درد دل کا احساس کرتی تھی . وہ اپنے بھائیوںسے بے حد محبت کرتی تھی . بھائی بھی اسکی زندگی میںتکیہ گاہ تھے . جب اس کا بھائی صخر مرگیا تو اس کی آنکھوں سے خون جاری ہوا .اس کی دل سے دلسوز شعر محبت کہا گیا ہے .اس کی شاعری کا مصدر عاطفہ تھا . جو اس کی شاعری میںحرارت پیدا کردیتا تھا . اسکی شاعری گریہ اور نالہ کرنے پر مجبور کر دیتی تھی . اگر چہ خنساء کی شاعری میںعاطفہ تھا پھر بھی اس کی شاعری مبالغہ سے خالی نہ تھی . مثلا ً

       فلا واللہ ما انساک حتی         افارق  مھجتی     و یشق     رمسی

        فیا لہفی علیہ و لہف امی        ایصبح فی الصنریح و فیہ یمسی

خنساء کی تاریخ زندگی حسب ذیل کتب سے لی گئی ہے . (١) شہیرات النساء فی العالم الاسلامی،ص٢۔(٢ )الودائع خنساء ص ٢٨۔(٣)الخنساء شاعرة البکائ، چاپ دمشق.

لبید  بن  ربیعہ

اس کا پورا نام ابوعقیل لبید بن ربیعہ تھا وہ شجعان قوم سے تعلق رکھتا تھا . بخشنے والا ، مھربان ، دلیر اور غریبوں کی مدد کرنے والا شخص تھا اس کا دسترخوان ہمیشہ مہمانوں کی پذیرائی کے لیے کھلا رہتا تھا اس نے  ٦٢٩ئ کو اسلام قبول کیا . وہ شاعری کرتا تھا . اس نے کوفہ میں اپنی سکونت اختیار کی اس نے کئی سال اپنی عمر کے وہاں گزارے .آخر کا ر اس نے  ٦٦١ئ میںوفات کی. لبید کا ایک دیوان ہے جو پہلی مرتبہ ١٨٨٠ئ میںطبع ہوا اس کا جرمن زبان میںبھی ترجمہ کیا گیا ۔

 اس کا مشہور کلام ،قصیدہ معلقہ تھا جو ٨٨ بیت پر مشتمل ہے . اس قصیدہ میںاس نے دیار کا ذکر کیا ہے . ناقہ کی وصف ، ایام لھو و لعب کا ذکر شاعر کے افتخارات کا ذکر اور اپنی قوم کی شجاعت کا ذکر کیا ہے . اس  کاایک شعر حسب ذیل ہے .

       عفت الدیار مصلھا فمقامھا             بمغی تابر غولھا فرجامھا

لبید وہ شاعر ہے جس نے شعروںاور ان کی تاثرات کو اپنی شاعری میںنقش کیا ہے . لبید ایک پرجوش اور صداقت سے سرشار شاعر ہے . لبید کے اشعار سادہ اور صلابت سے سرشار ہیں اس کے اشعار میںصداقت اور سادگی ظاہر ہوتی ہے . وہ خود بھی سادہ اور صداقت والی زندگی گزارتا ہو گا . اس کے اشعار اس کی زندگی کی عکاسی کر رہے ہیں. لبید کے اشعار اور مرثیہ پر سوز تھے وہ دل میںعمیق اثر چھوڑ جاتے تھے لبید کا زندگی نامہ مندرجہ ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الروائع لبید بن ربیعہ، چاپ بیروت .    (٢) المعلقات العشر واخبار شعرائھا، چاپ قاھرہ .

اعشی الاکبر

ابو بصیر میمون بن قیس البکری معروف بہ اعشی الاکبر ٥٣٠ئ میںیمامہ میں منفوحہ کے مقام پر متولد ہوا . اس کا پہلا راوی خود اس کا مامو مسیب بن علس تھا۔

. اعشی ایک عشرت طلب آدمی تھا . یہ قمار بازی اور دوسری لگویات میںمصروف رہتا تھا .انکی وجہ سے وہ اسراف اور اتلاف میںگرفتار ہو گیا . اس لیے اس کو مال جمع کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا .

 وہ یمامہ سے یمن ، بادیہ ، حجاز ، حیرہ ، عمان ، فلسطین ، عراق ، اور ایران گیا . کوئی ایسا بادشاہ نہ تھا . جس سے اس نے مالی مدد طلب نہ کی ہو .اعشی اپنے زمانے میں خاصہ اثر والا شخص تھا زمانہ جاہلیت میںجس کی وہ مدح کرتا تھا وہ اس کو مال بخش دیتا تھا . جس کے لیے اس نے مدح کی اس کی منزلت بڑھ گئی،

جو چاہتا تھا کہ اعشی اس کو اپنے اشعار میں یاد کرے اسے کچھ مال دے دیتا تھا .وہ اس کو اپنے اشعار میں یاد کرتا تھا .اعشی ٦٢٩ئ میں وفات کر گیا . ابو الفرج اصفہانی اعشی کے زمانے کا تھا . وہ روایت کر تا ہے کہ اس کی قبر کو میںنے دیکھاکچھ نوجوان اس کی قبر پر موجود تھے . وہ اس پر مٹی برسار ہے تھے . تاکہ اس کے استخوان کو زمین میںدفن کردیں . اعشی کا ایک بہت بڑا دیوان ہے . اس نے تمام ابواب میںطبع آزمائی کی ہے لیکن اسکے  بیشتر اشعار مدح میں ہیں. غزل ، وصف ، اور خمر میںبھی اس نے کافی اشعار لکھے ہیں . اس کے مشہور قصائد میںایک قصیدہ معلقہ ہے .”

     ودع ھریرہ ان الرکب مرتحل                     وھل تطیق وادعا ً ایھا الرجل ”

قصیدہ معلقہ تقریبا ً  ٦٥ بیت پر مشتمل ہے .اس کا جرمن ، فرانسوی اور فارسی میں ترجمہ ہو چکا ہے .اعشی شعر کہنے میں نابغہ کا پیرو تھا . اس نے اپنے اشعار میں بادشاہوںاور عام لوگوں میںفرق نہیں کیا . ہر وہ جو اس کو کچھ دیتا وہ اس کی مدح کرتا تھا . اس عمل کی وجہ سے گداگر ہو گیا . کہا گیاہے کہ وہ پہلا آدمی تھا . جس نے شاعری کے ذریعے گدائی کی ہے .

اس کی مداحی کا طریقہ کا ر وہی پرانا تھا . یعنی وہ قصیدہ کی ابتدا یا غزل یا وصف فخر یا مجالس لھو لعب سے کیا کرتا تھا . اس کے بعد وہ ناقہ کی وصف اور سفر کو بیان کرتا تھا .یعنی شجاعت ، شرافت ، نسب ،کرم اور فریا د رسی وغیرہ . اعشی کے شعر میں وصف زیادہ ہے .لیکن اس کی وصف تشبیہ مادی پرموقوف تھی جو موصوف کو مجازا ً مجسم کر دیتی تھی .

 وہ دقایق او رحرکا ت کو اچھی وصف سے بیان کرتا تھا . وہ اپنی وصف میںان قصوںکو بیان کرتا تھا . جو وہ روزانہ لھو لعب کی مجلسوںمیں اپنے دوستوںکے ساتھ برپا کرتا تھا . اور و ہ چیزیں لاتا تھا جو وصف انسانی کو بیان کرتی ہوں.

اعشی کے دیوان میںشراب کی وصف اکثر دیکھی گئی ہے .

 وہ شراب کو تفاخر کی خاطر نہیںبلکہ عادت شاعری کیوجہ سے پیا کرتا تھا اور اسکی وصفیںبیان کرتا تھا . اعشی ایک ایسا شاعر تھا جس نے فرہنگ عربی سے بہرہ مندی حاصل کی۔ اور اپنا شیوہ زندگی ایرانیوںسے سیکھا . اس کے عصر کے شعراء اسکو ” صناحة العرب ” کے لقب سے پکارتے تھے . جس کا معنی ہے چنگی عرب . اس کی زندگی کو حسب ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) دراستہ الشعراء  ص ٢٨٦ ، چاپ قاھر ہ ۔      (٢) الروائع ص ٣١، چاپ بیروت .

عنترہ  بن شداد العبس

عنترہ بن شداد بن العبسی المصری ٥٢٥ئ کو نجد میں پیدا ہوا . اس کا باپ عبس کے اشراف خاندان سے تھا اس کی ماںایک حبش کنیز تھی جس کا نام زبیبہ تھا . جس کو شداد نے ایک جنگ میںاسیر کیا تھا .

 زمانہ جاہلیت میںیہ رواج تھا کہ کنیزوںکے بیٹوںکو باپ اپنے بیٹے تصور کرتے تھے جب وہ کوئی کا ر خطا نہ کریں .عنترہ اپنے باپ کے گھر میںرہتا تھا . گھوڑوںاور اونٹوںکو چرایا کرتا تھا . ان دنوںاس کی دلیری ، سواری ، مشہور ہو گئی . عنترہ ان دنوںداستان اور افسانہ نگاری سے خوب واقف ہو گیا تھا . اس کی وجہ سے اس کی مدح سرائی کی . اور ان کا اپنی شاعری میںاچھے انداز سے ذکر کیا . ان دنوںاتفاق ہو اکہ قبیلہ طیئی والوںنے قبیلہ عبس پر حملہ کردیا .طیئی والے چاہتے تھے کہ عبس والوں کے اونٹ اپنے ساتھ لیجائیں،طئیی والوںنے عنترہ کو ایک حملہ میںقبضے میںلے لیا تھا لیکن عنترہ سرباز تھا ا سنے جوابی حملے میںاپنے آپ کو آزاد کر الیا . عنترہ کا ایک دیوان ہے جس میں١٥٠٠ بیت ہیں . جو بیروت میںچاپ ہو چکا ہے . اس کے بہت سارے قصائد ہیںجن میں مشہور قصیدہ کا ” مطلع” ہے :

   ھل دار عبلة بالجوء تکلمی         وعمی صباحاً دار عبلة واسلمی ٰ ”

عنترہ کو حرب سباق میںقتل کیا گیا تھا . عنترہ ایک بزرگ شخصیت تھا اس جیسے شاعر عصر جاہلیت میںکم دیکھے گئے ہیں. عنترہ  ٦١٥ئ میںقتل کیا گیا . عنترہ کا زندگی نامہ مندرجہ ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الروائع عنترہ بن شداد،  چاپ بیروت .(٢) شعراء النصرانیہ، چاپ بیروت .

زھیربن ابی سلمی

زہیر بن ابی سلمی ربیعہ قبیلہ مزینہ سے اور مزینہ قبیلہ مضر سے تھا . زہیر ٥٣٠ئ کو نجد میںپیدا ہوا اس کا باپ ربیعہ اپنی قوم مزینہ سے خارج ہو کر قوم غطفان میںشامل ہو گیا . اس قبیلے کی ایک لڑکی ام عبرہ سے شادی کی. اس عورت سے زہیر پیدا ہوا . پھر زہیرنے قبیلہ غطفان میںتربیت حاصل کی غطفان قبیلے میںایک شخص زمینگیر تھا . جو توانگر تھا . وہ زہیر کے باپ ربیعہ کا ماموںتھا . اور شاعر بھی تھا . زہیر نے اس کی ملازمت اختیار کر لی پھر وہ اپنی ماںکے دوسرے شوہر اوس بن زعیم جو مکتب مضر کا پیرو تھا .سے شاعری سیکھی .

زھیر نے غطفان قبیلے میںدو مرتبہ شادی کی . پہلی کا نام ام اوفی ہے بعد میںاس کو طلاق دے دی . پھر اس نے کبشہ نامی عورت سے شادی کی اس سے دو بیٹوںکا باپ بنا . اس کا ایک بیٹا کعب بن زہیر صاحب قصیدہ ”بانت سعاد” دوسرا بحیر تھا زہیر نے تقریبا ٩٠ سال کی عمر میں٦٢٧ئ کو وفات کی . زہیر نے ساری زندگی وقار اور بردباری سے گذاری . وہ صلح اور نیکی کا دوستدار تھا . بعض مورخان نے لکھا ہے کہ وہ نصرانی تھا کیونکہ ایک دیندار ، سچا اور ایمان دار شخص تھا۔

 زھیر کا ایک دیوان ہے . اس دیوان میںاشراق غطفان ، مدح ہرم بن سنان ، غزل فخر ، ھجو موجودہے . اس کے مشہور قصیدہ کا مطلع حسب زیل ہے .

       ”امن ام اوفی دمنہ لم تکلم                 بحو  ماتة    الدراج    فالمثلم ”

زہیر نے تربیت اپنے باپ اور ماموں سے حاصل کی، زہیر ایک قاضی اور حکیم اور صلح پسند انسان تھا۔

 اس کی زندگینامہ مندرجہ ذیل کتب سے اخذ کیا گیا ہے۔

(١) الادب الجاہلی، ص ٢٩٩،چاپ قاہرہ۔

 (٢) الشعر الطبیعة فی الادب الاربیة،ص٨٧، چاپ قاہرہ۔


موضوعات مرتبط: 
انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 2 (نشريه بزم رأفت)

[ پنجشنبه هفتم مرداد 1389 ] [ 11:29 ] [ انجمن ] [ 1 نظر ]


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s