بوری میں بند لاش

بوری میں بند لاش
کسی سے کچھ نہیں کہتی
سارے سوالوں کے جواب
اسکی مٹھی سے گر کر کہیں کھو گئے ہیں
ادھ کھلی آنکھوں میں قید
آخری منظر
قطرہ قطرہ پگھل رہا ہے
لوگوں کے چہرے بجھے ہوئے ہیں
کچھ آوازیں بھی اس منظر میں موجود ہیں
جنہیں خاموش ہونٹوں نے جکڑ رکھا ہے
اس سڑک پرجہاں
بوری میں بند ایک لاش پھینک دی گئی ہے
نیا دن پوری آب وتاب سے طلوع ہو رہا ہے
لوگوں کا شور مچاتا ہجوم
اس راستے سے گزر رہا ہے
جہاں
بوری میں بند لاش
کسی سے کچھ نہیں کہتی

Advertisements

2 responses to “بوری میں بند لاش

  1. اپنا شعری مجموعہ یہاں اپ لوڈ کرنا چاہتے ہیں
    سید انورجاوید ہاشمی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s