شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال

new year

شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال

 آج نجانے کیو ں سانپ کی طرح رینگ رہا ہے

 اس کی زہر بھری پھنکار سے میرے تازہ خوابوں فصل جل چکی ہے

 زخم آلودہ جسم

لمس کی خواہش لئے آہٹوں کی دھند میں کہیں گم ہو چکا ہے

 سورج کالی آندھیوں کی گرفت میں اپنی گرم روشنی کھوتا جارہا ہے

 ایک اندھیرا گم راہ تیر کی طرح میر ے دل کی جانب محو پرواز ہے

اس سے پہلے کہ دشمن مجھے گھائل کردے

 میری آنکھوں کی خالی جھیل سے ایک بے نام سی روشنی چشمہ بن کر پھوٹنے لگی ہے

 اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کی آھٹ پر

 دل کے سدا بند رہنے والے دروازے !

 دوستوں کی بانہوں کی طرح وا ہوتے جارہے ہیں

میرے دل  میں اب امید کے چراغ سے روشن ہیں

شاید گزرتے ہوئے اس بے ثمر سال کے بعد

 سیاہ بادلوںکو جگمکاتے ستاروں سے آویزاں کر دیا  جائے

! اور ایک ننھی بے نام سی روشنی سورج کی کرن کو تھام کر سارے منظر کو روشن کردے

Advertisements

One response to “شب و روز کی گردش سے گزرتا ہو ایہ سال

  1. بہت پیاری اور امید سے بھرپور نثری نظم کہی ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s